فنا و بقا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مرنا اور جینا، موت و زیست۔ "ہستی و عدم، فنا و بقا، حدوث و تغیر معنی و صورت کے بے شمار پہلو نکلتے ہیں۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٩٥١:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق دو اسما 'فنا' اور 'بقا' کو (بالترتیب) حرف عطف 'و' کے ذریعے ملانے سے مرکب عطفی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٩٧٥ء کو "تاریخ ادب اردو" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مرنا اور جینا، موت و زیست۔ "ہستی و عدم، فنا و بقا، حدوث و تغیر معنی و صورت کے بے شمار پہلو نکلتے ہیں۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٩٥١:٢ )

جنس: مؤنث